• February 24, 2021

ایف بی آرکا ٹیکس گزاروں کو اے ڈی آر سی کے ذریعے مقدمات کا فوری حل نکالنے کی ترغیب

فیڈرل بورڈ آف ریونیو ٹیکس مقدمات کی مختلف اپیل کے فورمز بشمول کمشنرز ان لینڈ ریونیو اپیلز، ایپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر التوء کیسز کو جلد از جلد نمٹانے کے لئے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ ایف بی آر نے اپیل کے پہلے لیول یعنی کمشنرز اپیلز لیول کے پراسیس کو یکم جنوری 2021 سے اپیلوں کی الیکٹرانک فائلنگ کے نظام کو متعارف کرنے سے آسان اور سادہ بنا دیا ہے۔ ای فائلنگ کے ذریعے ٹیکس گزار نہایت آسانی کے ساتھ اپنے متعلقہ فیلڈ دفتر جائے بغیر آن لائن طریقہ سے کسی بھی آرڈر کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ ای فائلنگ طریقہ کار متعارف کرنے سے پیشتر بھی پرفارمنس معاہدہ کے تحت کیسز کو نمٹانے کی رفتار ہدف سے تجاوز کر رہی تھی۔ جولائی تا دسمبر 2020 میں کمشنرز ان لینڈ ریونیو اپیلز نے مقرر کردہ ہدف 7818 کیسز سے تجاوز کرتے ہوئے 17768 اپیلوں کو نمٹایا۔

ads

اسی طرح ایف بی آر کی درخواست پر ٹیکس سے متعلقہ مقدمات کی جلد سماعت اورفیصلے کے لئے سندھ ہائی کورٹ ، لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی بینچز تشکیل دیئے۔ اس کے علاوہ ایک نئی پالیسی متعارف کی گئی ہے جس کے تحت قابل وکیلوں کو تعینات کیا جا سکے گا اور کم تجربہ کار وکیلوں پر خرچ ہونے والا حکومتی ریونیو بچایا جا سکے گا۔

ان جاری اٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے دسمبر 2020 تک کی آخری سہ ماہی میں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ نے 81.7 ارب روپے پر مشتمل ریونیو کے 934 ٹیکس سے متعلقہ کیسز نمٹائے ہیں۔مزید برآں ایپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو نے اسی عرصہ میں 168.5 ارب روپے پر مشتمل ریونیو کے 1240 کیسز نمٹائے ہیں۔

ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لئے اے ڈی آر سی (متبادل تنازعات کی کمیٹیاں) کا نظام تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت ٹیکس گزارنامزد کمیٹیوں کے ذریعے اپنے زیر التوء کیسز کو بہت قلیل وقت میں اور بغیر کسی خرچہ کے حل کرواسکتے ہیں۔

اب تک ٹیکس گزاروں کی درخواست پر 18 کمیٹیوں نے کیسز کو نمٹانے کے لئے کام شروع کر دیا ہے۔ ایف بی آر نے مزید وضاحت کی ہے کہ فنانس ایکٹ 2020 کے ذریعے قانون میں ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق ٹیکس گزار کسی دوسرے اپیل کے فورم سے اپنا کیس واپس لئے بغیر اے ڈی آرسی کے ذریعے اپنے کیس کو حل کروانے کے لئے درخواست دے سکتا ہے۔ ٹیکس گزاروں کا اس نظام پر اعتماد کو مضبوط کرنے کے لئے اے ڈی آر سی کے ممبران میں متعلقہ چیف کمشنر کے علاوہ معزز جج صاحبان، چارٹرڈ اکاونٹینٹس اور چیمبر آف کامرس کی طرف سے نامزد کردہ کاروباری افراد بھی شامل کئے گئے ہیں۔ کمیٹی کو ہارڈشپ کیسز میں ریکوری کور وکنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ ایف بی آر نے مزید وضاحت میں کہا ہے کہ ٹیکس گزاروں کی درخواستوں کو کمیٹی 120 ایام کی قلیل مدت میں نمٹانے کی ذمہ دار ہو گی جو کہ ٹیکس گزاروں کے لئے ایک بہت بڑی سہولت ہے۔

تازہ ترین خبریں

TAX.NET.PK

Fayyaz

Read Previous

سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت ان پٹ ٹیکس کیا ہے؟

Read Next

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) توقع کرتا ہے کہ جولائی 2021 سے مختلف شعبوں میں مصنوعات پر ٹیکس اسٹامپ متعارف کرائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share it !